بادشاہ گردی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - بدنظمی، لاقانونیت۔ 'یہاں مجھے معلوم ہوا کہ بادشاہ گردی کے کیا معنی ہیں۔"      ( ١٩٤٤ء، سرگزشت، ٤٧ )

اشتقاق

فارسی زبان کے اسم 'بادشاہ' کے ساتھ مصدر گردیدن سے مشتق صیغۂ امر 'گرد' لگا اور گرد کے ساتھ فارسی قاعدہ کے تحت 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگنے سے 'بادشاہ گردی' مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٦٤ء میں 'تحقیقات چشتی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بدنظمی، لاقانونیت۔ 'یہاں مجھے معلوم ہوا کہ بادشاہ گردی کے کیا معنی ہیں۔"      ( ١٩٤٤ء، سرگزشت، ٤٧ )

جنس: مؤنث